سرکاری ملازمین کی خوشیاں دوبالا کم از کم پنشن کتنی ہوگی، تنخواہوں میں کتنے فیصد اضافہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ  ڈیسک،آئی این پی) وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا،نجی ٹی وی کے مطابق نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ نے بجٹ 2018-2019 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔جب کہ مالیاتی بل 2018کی بھی منظوری دےد ی ہے۔2018 میں پیش کیے جانے والے بجٹ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ جب کہ کم از کم پنشن 10ہزار روپے مقرر کر دی گئی۔دریں اثنا  وفاقی بجٹ کے مالی سال 2018-19کے سالانہ ترقیاتی

 مجموعی طور پر 2043ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئے 1030ارب روپے جبکہ صوبائی پی ایس ڈی پی کیلئے 1013 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں نئی آنے والی حکومت کیلئے 100ارب ‘ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 201.6ارب ‘ فاٹا کے دس سالہ پروگرام کیلئے 100ارب ‘ وزارت ترقی و منصوبہ بندی کیلئے 27.6ارب ‘ ریلوے کیلئے 40 ارب‘ آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے 45ارب‘ وزیراعظم یوتھ پروگرام   کیلئے 10ارب ‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46.68ارب‘ وزارت داخلہ کیلئے 24.20ارب،وزارت صحت کیلئے25ارب،ملکی سیکیورٹی کو مستحکم کرنے کیلئے45ارب،آبی وسائل کیلئے 79.5ارب، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کیلئے 30.40ارب ، این ٹی ڈی سی اورپیپکو کیلئے36ارب روپے رکھنے گئے ہیں ۔ سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2018-19 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 2043ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کے لئے 1030ارب روپے جبکہ صوبائی پی ایسی ڈی پی کے لئے 1013 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 4677.487ملین‘ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے لئے 125ملین‘ کابینہ ڈویژن کے لئے 1116.438ملین‘ وزارت کیڈ کے لئے مجموعی طور پر 15236.924ملین روپے رکھے گئے ہیں جس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سیکشن کیلئے 8377.424ملین‘ صحت کے منصوبوں کیلئے 4208.539 ملین اور تعلیمی منصوبوں کیلئے 2650.961 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارت موسمیاتی ڈویژن کے لئے 802.699 ملین‘ کامرس ڈویژن کے لئے 1500ملین‘ کمیونیکیشن ڈویژن کے لئے 14480.848ملین‘ ڈیفنس ڈویژن کے لئے 640.44 ملین‘ وزارت دفاعی پیداوار کے لئے 2810ملین‘ اکنامک افیئر ڈویژن کے لئے 70.200ملین‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 175ملین‘ وفاقی وزارت تعلیم کے لئے 4336.508 ملین‘ فنانس ڈویژن کے لئے 18151.459ملین‘ فارن افیئر کے لئے 199.774ملین‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے 46679.950ملین‘ ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لئے 5433.126ملین‘ انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 300ملین‘ انڈسٹری اینڈ پروڈکشن ڈویژن کے لئے 1775.205ملین‘ اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لئے 1644.055ملین‘ انفارمیشن اینڈ ٹیلی کام ڈویژن کے لئے 3040.325ملین‘ بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لئے 3552.584ملین‘ داخلہ ڈویژن کے لئے 24207.854ملین‘ کشمیر افیئرز اینڈ گلگت بلتستان ڈویژن کے لئے 51205.617ملین‘ قانون و انصاف ڈویژن کے لئے 1025ملین‘ میری ٹائم افیئر ڈویژن کے لئے 10118.683ملین روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ تفصیلات کے مطابق انسداد منشیات ڈویژن کے لئے 251.207ملین ‘ نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کے لئے 1808.073 ملین‘ وفاقی وزارت صحت ڈویژن کے لئے 25034.498ملین‘ قومی تاریخ و ورثہ ڈویژن کے لئے 550.597ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن کے لئے 30424.540ملین‘ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 300ملین‘ پٹرولیم ڈویژن کے لئے 943.175ملین‘ ترقی و منصوبہ بندی ڈویژن کے لئے 27590.127ملین‘ پوسٹل سروسز ڈویژن کے لئے 370ملین‘ ریلوے ڈویژن کے لئے 40000ملین‘ مذہبی امور ڈویژن کے لئے 36.050ملین‘ ریونیو ڈویژن کے لئے 2558.950ملین‘ سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن کے لئے 2660ملین‘ سیفران دویژن کے لئے 28255.529ملین‘ شماریات ڈویژن کے لئے 200ملین‘ سپارکو کے لئے 4700ملین‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کے لئے 280.437ملین‘ واٹر ریسورسز ڈویژن کے لئے 79500ملین‘ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے 201600ملین‘ این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے لئے 36125ملین‘ وزیراعظم مستحکم پائیدار ترقی پروگرام کے لئے 5000ملین‘ سی پیک منصوبوں کے لئے 5000ملین‘ فاٹا کے دس سالہ منصوبے کے لئے 10000ملین‘ ایرا کے لئے 8500ملین رکھے گئے ہیں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں نئی آنے والی حکومت کے لئے پی ایس ڈی پی میں 100000ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے 45000ملین‘ ملک میں سکیورٹی کے لئے 45000ملین‘ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لئے 10000ملین‘ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے لئے 5000ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ مالی سال 2018-19 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پی ایس ڈی پی میں صوبوں کے لئے 1013ملین روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔